زکوٰۃ دینے سے مال کم ہوتا ہے؟
اپنی زکوۃ پوری دیں، ایک بڑے دکھ والی بات ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب بڑی تعداد لوگوں کی زکوۃ نہیں دیتی ہے، یا زکوٰۃ پوری نہیں دیتے ہیں، کیلکولیشن ٹھیک نہیں کرتے ہیں، بس اندازا زکوۃ نکال دی، تھوڑے بہت دے دئیے، زکوۃ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ہے، بچپن سے ہم سنتے رہے ہیں کہ اسلام کے پانچ ستون ہیں ایمان لانا، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ سال میں صرف ایک بار زکوٰۃ دینی ہوتی ہے اور ہم لوگ وہ بھی پوری نہیں دیتے ہیں۔ اچھا اگر زکوۃ دینی ہے تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سال پورا ہوگیا ہے اب زکوٰۃ دینی ہی پڑے گی۔ تمیں شرم نہیں آتی کہ زکوٰۃ دینے کا بوجھ لے رہے ہو؟ دس لاکھ روپے میری زکوٰۃ بن رہی ہے، او اللہ کے بندے! اللہ تعالیٰ نے چار کروڑ دئیے ہیں تو تو دس لاکھ روپے زکوٰۃ بن رہی ہے نا، اللہ کا شکر ادا کرو، ہمیشہ یہ بات یادرکھیں کہ جب بھی صدقہ، خیرات، زکوٰۃ دیا کرو تو ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا کرو کہ مولاتیری مہربانی تو نے دینے والا بنایا ہے، مانگنے والا نہیں بنایا۔ ہم بھی کسی کے دروازے پر کھڑے ہوسکتے تھے کہ بھائی کھانے کو نہیں ہے، خدا کے واسطے دے دو۔ میری ماں بیمار ہے۔ علاج کے پیسے نہیں ہیں۔ بہن کی شادی ہے جہیز کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ اپنے آپ کو تصور میں لاؤ کہ اگر میں یا میرا بچہ یامیرے گھر والے کسی کے دروازے پر جاتے تو کیسا محسوس ہوتا۔ یہ اللہ نے مہربانی نہیں کہ تمیں دینے والا بنایا ہے۔ ہم میں کیا کمال ایسا ہے کہ جو زکوٰۃ لینے والے میں نہیں ہے۔ یہ فقط اللہ کی مہربانی ہے ہم سے ذیادہ سمجھدار، ہم سے ذیادہ عقلمند،ہم سے ذیادہ پڑھے لکھے، ہم سے ذیادہ نیک لوگ غریب ہیں لیکن اللہ نے تمہیں دینے والا بنایا ہے۔ جس جس کو بنایا ہے کہ کبھی اس چیز پر غرور نہیں کرنا۔ کبھی یہ مت سوچنا کہ میں دے رہا ہوں، ارے میری اوقات کیا ہے میرے رب نے یہ مجھ پر رحمت فرمائی فرمائی ہے۔ تو صدقہ، زکوٰۃ دینا بھی ہے تو خوش بھی ہونا ہے اور سجدہ بھی کرنا ہے کہ مولا تیری مہربانی تو نے یہ اوقات بنادی میری۔ اور یقین جانیں جس نے بھی حلال کما کر پوری زکوٰۃ دی ہے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے اس کی زکوٰۃ اور بڑھا دی ہے۔ زکوٰۃ بڑھ گئی تومطلب کیا ہواکہ مال ودولت بھی بڑھ گئی ہے، کیلکولیٹر پتہ ہے کیا کہتا ہے کہ پیسے کم ہوگئے ہیں چار کروڑ تھے دس لاکھ زکوٰۃ دی ہے تو تین کروڑ نوے لاکھ روپے رہ گئے ہیں۔ ایک لاکھ روپے تھے، پچیس سو زکوٰۃ دے دی تو ستانوے ہزار پانچ سو رہ گئے۔ کیکولیٹر تو بتائے گا کہ پیسے کم ہوگئے ہیں۔ میرے آقا محمدمصطفے ﷺ فرماتے ہیں کہ میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا۔ کیلکولیٹر کہتا ہے کہ مال کم ہوریا ہے اس کو کہنے دو۔ لیکن تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو، کدھر سے آئے گا تمہاری کیلکولیشن جواب دے جائے گی۔ مثال کے طور پر کوئی بندہ کھیت میں اناج کی دوبوریاں لے کرجائے گا اور وہ دو بوریاں بیج کی کھیت میں چھڑک کر آجائے گا تو کیلکولیٹر کیا بتائے گا کہ دوبوریاں بیج کی ختم ہوگئیں۔ اور لوگ کہیں گے کہ دوبوریاں لے کر گیا تھا اورخالی کرکے آ گیا کچھ بھی اس کے پاس نہیں بچا۔ مگر عقل مند آدمی کہے گا کہ دوبوریاں ڈال کرآیا ہے لیکن تھوڑے دنوں میں دوٹرک بھر کرلائے گا۔ یہ بیج درخت بنیں گے یہ بیج فصل بنے گی۔ تو زکوٰۃ دراصل یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا دراصل یہ ہے۔ کہ آپ یہ صدقہ، زکوۃ دیتے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں چارگنا ذیادہ کرکے لوٹاتا ہے۔ لہذا! آپ دوستوں سے گزارش ہے کہ زکوٰۃ پوری دیں اس کو بوجھ تصورنہ کریں۔ یہ مال کا میل ہے اور یہ میل جس مال میں مل گیا اُس مال کو برباد کردے گا۔


No comments:
Post a Comment
Thank you for contacting us, we will response ASAP